بيوى كو طلاق دے دى ليكن طلاق كا اسٹام نہيں بنوايا

5,857

سوال 10209

ايك عورت كو اس كے خاوند نے طلاق دے دى اور اس كى عدت بھى گزر چكى ہے، ليكن وہ اب تك اسلامك سينٹر سے طلاق كا پيپر نہيں لا سكى، اور نہ ہى اس كے پاس اس ملك كے سركارى محكمہ سے طلاق كا كوئى ثبوت ہے جہاں وہ منتقل ہوئى ہے، تو كيا اس كے ليے شادى كرنا جائز ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

" جس ملك ميں منتقل ہوئى ہے وہاں كى عدالت ميں جا كر وہ خاوند غائب ہونے اور اخراجات نہ بھيجنے كو مد نظر ركھتے ہوئے فسخ نكاح طلب كرے، تو يہ فسخ طلاق كے قائم مقام ہو گا "

واللہ تعالى اعلم.

حوالہ جات

طلاق

ماخذ: 

الشیخ عبداللہ بن جبرین

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play