تجارت ميں چلنے والے مال كى زكاۃ

6,333

سوال 2544

ميرے پاس كچھ رقم ہے جو زكاۃ كے نصاب سے زيادہ ہے، ميں نے اس ميں سے كچھ رقم تو تجارت ميں لگا ركھى ہے، اس برس كى زكاۃ كے حساب كے وقت كيا ميرے ليے يہ رقم اپنے پاس موجود رقم كے ملانا ضرورى ہے، حالانكہ ميں نے يہ رقم تجارت ميں لگانے كے بعد واپس نہيں لى، يا كہ ميرے ليے زكاۃ كا حساب اسى مال ميں كرنا كافى ہے جو اب ميرے پاس ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جب آپ كے مال پر سال مكمل ہو جائے تو آپ اس كى زكاۃ نكاليں گے چاہے وہ آپ كے پاس ہے يا وہ تجارت ميں لگى ہوئى ہے، اور اگر اس كا كوئى منافع ہو تو اس كا سال اصل مال كا سال شمار كيا جائے گا.

واللہ اعلم .

حوالہ جات

زکاۃ کس میں واجب ہے

ماخذ: 

الشیخ محمد صالح المنجد

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play