ننگے سر نماز پڑھانے كا حكم

9,085

سوال 8890

كيا امام ننگے سر لوگوں كو نماز پڑھا سكتا ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جى ہاں ننگے سر نماز پڑھانا جائز ہے، ليكن افضل اور بہتر يہ ہے كہ وہ سر ڈھانپ كر ركھے، كيونكہ سر ننگا ركھنا خلاف مروؤت ہے، اور اسے چاہيے كہ وہ اپنے دونوں كندھے ڈھانپ كر ركھے، امام احمد كا مسلك يہى ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے كوئى بھى ايك كپڑے ميں نماز ادا نہ كرے كہ اس كے كندھے پر كچھ نہ ہو "

صحيح بخارى ( 1 / 498 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 516 ).

حوالہ جات

امامت

ماخذ: 

ديكھيں: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 77 )

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play