بارہ تاریخ کی رمی کیے بغیر ہی سفرکرگيا

7,066

سوال 48994

میں نے حج کے بعد بارہ تاریخ کوچاربجے سہ پہر کی سیٹ اوکے کروا رکھی تھی اورمیرا خیال تھا کہ میں اس دن کی رمی کرلوں گا ، لیکن مجھے یہ ڈرپیدا ہوا کہ اگرمیں نے زوال کے بعد رمی کی توسفر سے رہ جاؤں گا لھذا میں نے صبح ہی رمی کرلی اورطواف وداع کرکے سفر کرگيا ، لھذا مجھ پرکیا واجب آتا ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

زوال سے قبل رمی کرنا جائزنہیں ہے ، لیکن یہ ممکن ہے کہ اس حالت میں ضرورت کی بنا پراس سے ہم رمی ساقط کردیں اوراسے ہم یہ کہیں کہ :

آپ پرایک بکرا فدیہ لازم آتا ہے جومکہ میں ذبح کرکے وہاں کے مساکین میں تقسیم کیا جائے ، یا پھرآپ کسی کووکیل بنا دیں جووہاں آپ کی جانب سے ذبح کرکے تقسیم کردے  .

حوالہ جات

حج اور عمرے کا طریقہ

ماخذ

دیکھیں : فتاوی ارکان اسلام صفحہ نمبر ( 564 ) ۔

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android