اگر قرآن مجيد كا زيادہ حافظ اشعرى عقيدہ ركھتا ہو تو كيا اسے امامت كے ليے آگے كيا جائيگا ؟

7,395

سوال 4025

اگر حافظ قرآن اشعرى عقيدہ ركھے تو كيا اسے امامت كے مقدم كيا جائيگا يا نہيں ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اگر وہ اپنى بدعات كى دعوت نہيں ديتا اور جب اسے حق معلوم اور واضح ہو جائے تو جھگڑا نہيں كرتا تو اسے امامت كے ليے آگے كرنے ميں كوئى حرج نہيں، وگرنہ اس كے علاوہ كوئى اور شخص بہتر ہے، چاہے وہ اس سے كم حفظ والا ہى ہو.

واللہ اعلم .

حوالہ جات

امامت

ماخذ: 

الشیخ محمد صالح المنجد

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play