عورت كے ليے جرابيں پہننا افضل ہيں چاہے اس كا لباس پاؤں كو چھپا بھى رہا

7,183

سوال 12503

اگر عورت كا عبايا اور برقع اتنا لمبا ہو كہ عورت كے پاؤں بھى چھپ جائيں تو كيا اس كے ليے جرابيں بھى پہننا واجب ہيں ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

مسلمان عورت سے مطلوب يہى ہے كہ وہ اجنبى اور غير محرم مردوں سے اپنا سارا جسم چھپا كر ركھے، اسى ليے عورت كو اپنے پاؤں چھپانے كے ليے اجازت دى گئى ہے كہ وہ اپنا لباس ٹخنوں سے ايك ہاتھ نيچے تك ركھ سكتى ہے.

عورت كو يہ چاہيے كہ وہ اپنے پاؤں چھپا كر ركھے، يا تو اضافى كپڑے كے ساتھ، يا پھر جرابيں پہن كر، يا كسى اور طريقہ سے، چنانچہ جب عورت كے پاؤں چھپے ہوں تو پھر اس كے ليے جرابيں پہننا واجب نہيں.

ليكن اگر وہ پھر بھى جرابيں پہن ليتى ہے تو يہ اس كے پردہ كے ليے بہت اچھا اور مستحسن اقدام ہے.

واللہ اعلم .

حوالہ جات

عورت کا لباس

ماخذ

الشیخ محمد صالح المنجد

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android